Home Pakistan News Zainab Murder Case: Police Investigation could frustrate people

Zainab Murder Case: Police Investigation could frustrate people

5
SHARE


لاہور / قصور : تمام تر دعووں کے باوجود قصور کی ننھی زینب کو قتل کرنے والا سفاک ملزم پکڑا نہیں جاسکا۔ زنیب کے والد نے تفتیش کے طریقہ کار پراعتراض اٹھا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اصل مجرم پکڑے، بے گناہ لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔

زینب کا قاتل کہاں گیا ؟؟؟

زمین نگل گئی ۔۔۔ یا آسمان کھا گیا ؟؟؟

 

ملزم کی شناخت کے لئے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کام نہ آئی، تاہم نئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کا چہرہ صاف نظر آگیا۔ مشتبہ افراد کی پڑتال کے لئے فرانزک ٹیم کا کیمپ قصورمیں لگوا دیا گیا ہے اور تفتیش کا دائرہ سیکڑوں افراد تک پھیل چکا ہے۔

زینب کے قتل میں ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونیکا امکان

ذرائع کے مطابق قصور میں زیادتی کے قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے کیس میں یہ اہم انکشاف ہوا ہے کہ بچی کو قتل کرنے والا ملزم اکیلا نہیں تھا بلکہ کم از کم تین افراد ملوث ہیں۔ سیکورٹی اداروں کو مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز موصول ہو گئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ بچی کو لے جانے والے ملزم کے ساتھ اس کے ساتھی بھی موجود تھے۔ تحقیقاتی اداروں نے تین ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے تاہم بچی کو لیجانے والے مرکزی ملزم کی گرفتاری تاحال باقی ہے۔ زینب کی ڈی این اے رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ آخری ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف میڈیا بریفنگ میں عوام کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

زینب کے والد کا بیان

زینب کے والد کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں اصل ذمہ دار کو تلاش کریں، شہریوں کو بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے۔ واقعہ کو چھ روز گزرنے کے بعد آئی جی پنجاب کو بھی ہوش آگیا ہے اور وہ پیر کے روز قصور میں زیادتی کے واقعات سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

فرانزک ٹیم اور ڈی این اے

فرانزک ٹیموں کا قصور میں ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کا عمل جاری ہے، مزید افراد کے ڈی این اے سیمپلز لینے کے لیے پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔ زینب کے محلہ داروں اور ہمسایوں کے نمونے لیے جائیں گے۔ کچرا اٹھانے والوں، کباڑیے اور دیگر مشکوک افراد کے ڈی این اے سیمپل لینےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیمیں اب تک سو سے زائد افراد کے نمونے لے چکی ہیں۔

علاقے سے غائب ہونے والے افراد کے گرد گھیرا تنگ

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں قصور واقعے کے بعد پولیس حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے واقعے کے بعد علاقے سے غائب افراد کی نشاندہی کرلی ہے اور ملزم کے ساتھ حلیے میں مشابہت والے مشکوک افراد سے تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے انسپکٹر جنرل پولیس کو روزانہ قصور جا کر کیسوں پر پیشرفت کا ذاتی طور پر جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہ آئی جی پنجاب اس ضمن میں ان کا ہیلی کاپٹر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حیلے بہانے نہیں چلیں گے۔ ملزم کی گرفتاری چاہیے۔

زینب کو انصاف دی کے بینرز آویزاں

قصور شہر میں جگہ جگہ زینب کو انصاف دو کے بینرز آویزاں کر دیئے گئے، معاملے پر بنائی گئی جے آئی ٹی بھی شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے، لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ زینب کو انصاف دو، قصور شہر کے مختلف مقامات پر بینرز لگ لگے۔

پولیس کی اب تک کی کارروائی

دوسری جانب پولیس قاتل کو پکڑنے کیلئے نت نئے جدید طریقے اپنا رہی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد تحقیقات کا دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ واقعے کے بعد ڈی پی او قصور کے آفس میں کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا جہاں 89 کالز موصول ہوئیں۔ دوسری طرف معاملے پر بنائی گئی جے آئی ٹی بھی شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے، 24 گھنٹے میں رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔

پس منظر

واضح رہے کہ ننھی سات سالہ زینب انصاری کی لاش قصور میں واقع گھر کے کچرا کنڈی سے چھ روز قبل برآمد کی گئی تھی۔ زینب کے والدین ان دنوں عمرہ کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ زینب کو ٹیوشن سے واپسی پر اغوا کیا گیا تھا۔ سماء

Email This Post



Source link

SHARE