Home International News Geo postman

Geo postman

109
SHARE

ڈاکیے نے گھر کی بیل دی۔

Related image

“ڈاکیے نے گھر کی بیل دی۔ ایک دس سال کے بچے نے دروازہ کھولا ۔ ڈاکیے نے بچے سے کہا۔ اپنے امی ابو میں سے کسی کو بلواو ڈاک دے کر دستخط کروانے ھیں۔ بچے نے کہا۔ وہ گھر میں اکیلا ھے۔ ڈاکیے نے فون کرکے پولیس بلوا لی۔ والدین پر مقدمہ درج ھو گیا۔ اور بچے کو سوشل ڈیپارٹمنٹ والے لے گے کیونکہ والدین نے بچے کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر اس کی حفاظت اور زندگی کو غیر یقینی بنا دیا تھا۔ برطانیہ میں بارہ سال سے کم عمر بچوں کو اکیلا چھوڑنا غیر قانونی ھے۔ چودہ سال سے کم عمر بچوں کو تا دیر تنہا چھوڑنا قابل گرفت جرم ھے۔ اور سولا سال تک کے بچوں کو رات میں اکیلا چھوڑنا غیر قانونی ھے۔
ایک گھر میں چولہے کو آگ لگ گئ۔ پھر ایک بوائلر بھڑک اٹھا۔ فائر بریگیڈ والوں نے رپورٹ لکھی۔ اس گھر میں ایک چھوٹا بچہ ھے۔ ایسے واقعات سے اس کی زندگی کو خطرہ ھے۔ اور یہ واقعات والدین کی غیر ذمہ دارای کا ثبوت ھیں۔ چار سال تک وہ بچہ اپنے والدین سے دور کر دیا گیا۔ اس دوران اگر دوسرا بچہ بھی جنم لیتا۔ تو اسے بھی لے جاتے۔
ایک بچے نے پولیس کو فون کیا۔ اس کے والدین آپس میں لڑ رھے ھیں۔ اور حسب توفیق ایک دوسرے کو پھینٹی لگا رھے ھیں۔ پولیس والدین کو پکڑ کر لے گئ ۔ ان پر مقدمہ درج ھو گیا۔ بعد میں والدین نے صلح کر لی۔ لیکن ان کے چار بچے سوشل ڈیپارٹمنٹ والے لے گئے۔ وجہ یہ کہ جھگڑالو والدین کی وجہ سے بچوں کی مناسب تربیت ممکن نہیں ۔
یہاں بچے ریاست کی ذمہ داری ھیں۔ یہاں کی ریاست ماں جیسی ھے۔ یہ ریاست بچوں کو مفت تعلیم دیتی ھے۔ کھانا دیتی ھے۔ جیب خرچ دیتی ھے۔ مفت کتابیں دیتی ھے۔ مفت علاج کرواتی ھے۔ اور ان کی حفاظت اور ویلفیئر کی ذمہ دار ھے۔
ایک پیاری سی بچی ھے۔ اس کے والدین ھمارے فیملی فرینڈز ھیں۔ یہ بچی نرسری میں داخل ھو گئ ۔ ایک بار ھمارے گھر آئ تو بڑوں کی طرح باتیں کر رھی تھی۔ ھمیں اچھی لگی۔ پاس بلا کر پیار کرنا چاہا تو کہنے لگی۔ میں فی میل ھوں ۔ یعنی لڑکی ھوں ۔ یہ مناسب نہیں ۔ ھم سب ھنسنے لگے۔ اس کی ماں نے کہا۔ جب سے یہ نرسری میں داخل ھوئ ھے۔ روز ایک نہ ایک ایسا سبق لے کر آ جاتی ھے۔ اسے اسکول میں باقاعدہ یہ ٹریننگ دی جاتی ھے۔ تمہارے حساس جسمانی مقامات کونسے ھیں۔ اور تم نے کسی کو انہیں چھونے کی اجازت نہیں دینی۔ اگر کوئی چھوتا ھے۔ تو اپنی ٹیچر کو بتاو ۔ اندازہ کریں ۔ یہاں کی سوسائٹی نے پہلے یہ تسلیم کیا۔ کچھ لوگوں میں پیڈوفیلیا کی بیماری ھے۔ یعنی وہ بچوں کی طرف جنسی رحجان رکھتے ھیں۔ اسی طرح یہاں کی سوسائٹی نے تسلیم کیا۔ قریبی رشتوں میں انسیسٹ یعنی جنسی رحجانات کا مسئلہ ھے۔ جس میں بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کی جنسیت کا شکار ھوتے ھیں۔ اور پھر اس سوسائٹی نے ان مسائل کا فکری ، تعلیمی اور عدالتی حل تلاش کیا۔ بچوں کی نرسری سے تربیت شروع کر دی۔ اور ایک ھم ھیں۔ ھماری زبان میں پیڈوفیلیا اور انسیسٹ کے لیے کوئی لفظ ھی نہیں ۔ گویا ھماری سوسائٹی یہ ماننے سے ھی انکار کرتی ھے۔ کہ ھمارے لوگ ان جنسی جرائم کا شکار ھیں۔ یہ ھپوکریسی یعنی منافقت کی انتہا ھے۔ کوئی ایسا شخص ھو گا۔ جس کو بچپن میں کسی نے ھاتھ نہ پھیرا ھو۔ بد فعلی کے واقعات عام ھیں۔ ھم اس تاثر کے ساتھ بڑے ھوتے ھیں۔ کہ مدرسوں میں اور اسکولوں میں چھوٹے بچوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ھے۔ ھمارے پیشتر لطائف انہی جنسی واقعات کے گرد گھومتے ھیں۔ وہ لطیفہ سب نے سن رکھا ھو گا۔ کہ تمام مسلکی مدرسے کم از کم اس ایک معاملے میں متفق ھیں ۔ ھمارےتحت الشعور اور ھماری سوسائٹی میں یہ سب تلخ حقیقتیں اور احساسات موجود ھیں۔ لیکن ھم ان پر سنجیدہ بات نہیں کرتے۔ گفتگو نہیں کرتے۔ یہ سوشل ممنوعات یعنی taboos ھیں۔ جنہیں لطیفوں کی شکل میں انجوائے کیا جاتا ھے۔ معاشرے کے تاریک کونے کھدروں میں ان پر عمل کیا جاتا ھے۔ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ھے۔ لیکن ھمارا مذھبی مائنڈ سیٹ اور ھماری نام نہاد اخلاقیات ھمیں ان مسائل پر گفتگو کرنے سے روکتی ھیں۔ ایف ایس سی میں بیالوجی میں موجود ری پروڈکشن کا چیپٹر ھم دوستوں نے اندر سے کمرہ لاک کرکے پڑھا تھا۔ کوئی ھمیں سن نہ لے۔ جبکہ ھمارے اپنے چھوٹے بیٹے نے یہاں چھٹی کلاس میں جب سیکس ایجوکیشن پڑھنی شروع کی۔ تو وہ روز کھانے کی میز پر ھم سے سیکس ایجوکیشن پر سوال کرتا اور میں اور اس کی ماں اور اس کے بڑے بھائی اس کو جواب دیتے۔ جنسی معاملات کے ساتھ احساس جرم اور احساس گناہ جوڑ دیا گیا ھے۔ یہاں تک کہ میاں بیوی میں جسمانی تعلق کی بنیاد بھی اس سوچ پر رکھی گئی ھے۔ کہ یہ تعلق صرف بچے پیدا کرنے کی حد تک ھے۔ کئ میاں بیوی رات کو لائٹ جلانے نہیں دیتے ۔ اگر اس تعلق میں لطف اور گرم جوشی کا پہلو شامل ھو جائے تو قباحت پیدا ھوتی ھے اور اگر نہ ھو۔ تو تب بھی مسائل جنم لیتے ہیں ۔ ھم عجب منافقت کی غضب کہانی بن چکے ھیں ۔ شادیاں لیٹ ھوتی ھیں۔ خیر سے دنیا میں فحش ویب سائٹس دیکھنے والی نمبر ون قوم ھیں۔ عام محاورہ ھے۔ ھماری سوسائٹی میں ننانوے فیصد لوگ مشت ذنی کرتےھیں جو ایک فیصد نہیں کرتے۔ وہ جھوٹ بولتے ھیں۔ لیکن ان مسائل پر بات کرنا ان کا حل نکالنا ھماری اخلاقیات اور ھمارے مزھبی مائنڈ سیٹ کو منظور نہیں ۔ ھم نے کبوتروں کی مانند آنکھیں بند کر رکھی ھیں۔ اور پھر ایک دن کوئی بیمار جنسی بلا آتا ھے۔ اور ھمارے کسی معصوم کبوتر کو چیر پھاڑ دیتا ھے۔ تب ھمارے تحت الشعور میں چھپا اور پرورش پاتا ھمارا گلٹ ھمارا احساس گناہ تصویروں، نوحوں، شعروں اور احتجاجوں اور توڑ پھوڑ کی شکل میں باھر بہہ نکلتا ھے۔ ھم سوشل میڈیا پر سیاپا ڈال کر اپنے اپنے گلٹ کا کتھارسس کرتےھیں ۔ سیاست کرتے ھیں۔ اپنا تاریخی گناہ دوسروں کے کھاتے میں ڈالتے ھیں۔ اور پھر ھلکے پھلکے ھو کر اگلے کسی واقعہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں لیکن اس کا مستقل حل اور تدارک نہیں کرتے۔ ھم کیسے مان لیں۔ ھم تو مسلمان ھیں۔ راسخ العقیدہ مذھبی ھیں۔ ھمارے موبائل فونز پر دن رات نعتیں اور سورتیں چلتی ھیں۔ ھم نے خود کو اپنے طے کردہ اون

SHARE