Home Pakistan News ماحولیاتی تبدیلیاں دنیا کو کہاں لا کر کھڑا کر سکتی ہیں؟؟؟

ماحولیاتی تبدیلیاں دنیا کو کہاں لا کر کھڑا کر سکتی ہیں؟؟؟

107
SHARE


ماحولیاتی تبدیلیاں پوری دنیا کوبدترین سیلابوں، طوفانوں، خشک سالی اور قحط سمیت مختلف قدرتی آفات کی جانب دھکیل رہی ہیں،اور اگر صورتحال یہ ہی رہی تو 2050تک عالمی سطح پرناصرفغذائی قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے بلکہ ایک چوتھائی سے زائد کرہ ارض خشک ہوجائے گا۔دوسری جانب گلوبل وارمنگ کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ میں اضافہ جبکہ درختوں اور پودوں میں نمایا ں کمی ہوجائے گی ،جس کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کوکنڑول کرنا مزید مشکل ہوجائے گا، ادھر سطح سمنرر میں مسلسل اضافے کے باعث کئی جزائز اور ڈیلٹا کے کریکس سمندر کی نذر ہوچکے ہیں، اس بارے میں پہلے ہی خبردار کیا جاچکا ہے کہ 2020 کے بعد سطح سمندر میں 4 فٹ تک اضافہ ہوسکتا ہےجبکہ2020 کے بعد زمین کا ایک حصہ مستقل قحط اور خشکی کا شکار ہوجائے گا ،ماہرین ماحولیات اس حوالے سے خاصے محتاط اور حیران ہیں کہ کس طرح ان تبدیلیوں کا سامنا کیا جائے۔

اگر پوری دنیا مل کر بھی گلوبل وارمنگ کو 2 ڈگری سیلسیئس اسکیل تک محدود کرے تو بھی اس سے بچا نہیں جاسکتا۔ اگر دنیا کا درجہ حرارت 2052 سے 2070 کے درمیان 2سینٹی میٹر تک پہنچ جاتا ہے تو زمین کا24سے 32فیصد حصہ مکمل طور پر خشک ہو جائے گا۔ اور دوسری جانب جنگلاتی آگ میں بھی اضافہ ہوجانے کا خدشہ ہے جبکہ کرہ ارض کے ایک حصے کو مستقل قحط کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

سال 2017 موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے امریکا کے لیے بدترین سال رہا، جس میں واشنگٹن کو شدید سمندری و ہوائی طوفانوں، ٹائیفونز، ٹورنیڈوز ہیریکینز اور جنگلاتی آگ سمیت متعدد قدرتی آفات کا سامنا رہااور یہ ہی حال تقریبا پوری دنیا کا ہے۔ واضح رہے 2017 میں قدرتی آفات کےباعث امریکا کو تاریخ کا بدترین مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔اس سے قبل 2005 میں امریکا کو گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا تھا تاہم 2017 اس سے کہیں زیادہ تباہ کن رہا۔

رواں برس امریکا کو قدرتی آفات کے باعث 306بلین ڈالرز کا نقصان ہوا جو 2005 کے مقابلے میں 90بلین ڈالر زیادہ ہے۔جبکہ گزشتہ برس ہاروے اور ارما جیسے طوفانوں سمیت مختلف 16 قدرتی آفات کے باعث ایک بلین ڈالر کے نقصان کاسامنا بھی رہا۔

سال 2017 امریکا کے لیے تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے گزشتہ برس کیٹگری 4 کے ہیریکینز کے باعث امریکا کی مختلف ریاستوں کو بڑے پیمانے پر تیز ہواوں اورشدید بارشوں کا سامنا رہا جسکے نتیجے میں بدترین طوفانوں اور سیلابوں نے تباہی مچائی جس سے 8 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

اگر بات کی جائےبراعظم آسٹریلیا کی تو صورتحا ل وہاں بھی کچھ اچھی نہیں، رواں برس سڈنی نے 79 برسوں کے دوران تاریخ کے گرم ترین دن کا سامنا کیا، جس میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ آسٹریلیا کے ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2040 تک آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر کو 50 ڈگری سینٹی گریڈدرجہ حرارت کا سامنا ہوگا۔

اگرتاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 1901 سے انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں ہورہی ہیں جس کے باعث درجہ حرارات میں سالانہ 1۔1سلیسس اضافہ ہورہا ہے۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ آج کرہ ارض تباہی کی جانب گامزن ہے ۔اگر گزشتہ 10 برسوں پر نظر ڈالی جائے تو تیزی سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آنے والے وقتوں میں دنیا کا مزید تباہی کا سامنا ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آنے والے 50 برس دنیا کی تباہی کا آغاز ہونگے؟

Email This Post



Source link

SHARE