Home International News geo ispr

geo ispr

72
SHARE

ہم جوہری طاقت ہیں، نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان میں کارروائی کی تو بھارت کی فوج کہاں تھی ؟ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے امریکہ کو کھری کھری سنادیں

Related image

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ۔ جیو پاک نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجرجنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ امریکا کو دیکھنا چاہیے کہ ہمارے درمیان غلط فہمیوں سے افغانستان سمیت خطے کے امن پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔میجر جنرل آصف غفورنے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔انھوں نے کہا کہ نئے سال کی پالیسی میں بھی ذکر ہے ٗخطے میں انڈیا کو سیکیورٹی کا اختیار دیا جائیگا تاہم ہم جوہری طاقت ہیں، ہم 20 کروڑ سے زائد کی آبادی

رکھنے والا ملک ہیں اور ہم خود ذمہ دار ملک ہیں اس لیے ہمیں کسی کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم خطے میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اس لیے امریکا کو دیکھنا ہے کہ ہمارا انڈیا کے ساتھ تعلقات کا ایک پہلو ہے ہمارے درمیان حل طلب مسائل ہیں جن کے حل کے بغیر خطے میں امن پیدا ہونا مشکل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں ہم نے اور آئیساف نے مل کر کام کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں پر انڈیا کا بہت منفی کردار رہا ہے کیونکہ انھوں نے ہمارے خلاف کارروائی کی یہاں پر دہشت گردی کی حمایت کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی جس کا جیتا جاگتا ثبوت کلبھوشن یادیو کی شکل میں موجود ہے جس کو پوری دنیا نے دیکھا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں کیا کام کیا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی کے بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا اپنا خطہ دیکھیں تو ان کا پس منظر بھارتی ہے اس لیے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کون سی قوتیں ہیں جو پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہیں اور ہماری غلط فہمیوں کا افغانستان اور خطے کے امن میں کیا منفی اثر پڑے گا۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان میں کارروائی کی تو بھارت کی فوج کہاں تھی اور پاکستان کی فوج کہاں تھی حالانکہ بھارت کو معلوم تھا کہ افغانستانمیں جنگ شروع ہوچکی ہے اور مغربی سرحد پر پاکستان کو فوج کی ضرورت پیش آسکتی ہے تو انھوں نے کارروائی شروع کی۔انھوں نے کہا کہ ہماری فوج کی توجہ مشرقی سرحد پر مرکوز تھی اور جب کامیابی کی جانب ہمارے قدم بڑھ رہے تھے تو بھارت نے کلبھوشن یادیو بھیج دیا اور جب ہم نے اپنی طرف امن قائم کیا اور افغانستان میں ہمارا کردار ہوسکتا ہے تو بھارت نے سرحد پر 2017 میں گزشتہ دس برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ کارروائی کیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نہیں چاہتا کہ ہمارے قدم اور توجہ امن کی جانب بڑھیں اس لیے وہ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جبکہ امریکا کو چاہیے کہ وہ بھارت کو بتائے کہ پاکستان کی افواج خطے میں امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور اس کی ضرورت مغربی سرحد پر ہے۔

SHARE