Home International News Geo gharat

Geo gharat

72
SHARE

بیس کروڑ لوگ مسلسل چھ ماہ سے امریکا سے بے عزتی کرا رہے ہیں

خواتین وحضرات ۔۔ سوشل میڈیا پر فلسطین کی ایک سولہ سالہ لڑکی کی فوٹیج دو ہفتوں سے وائرل ہو رہی ہے‘ یہ لڑکی اپنے بھائی کے ساتھ جا رہی تھی‘ اسرائیلی فوجی نے ۔۔انہیں روکنے کی کوشش کی اور اس نے فوجی کے منہ پر تھپڑ بھی مار دیا اور (اسے) ٹھڈا بھی مارا‘ آج اسرائیل کی فوجی عدالت نے اس پر فرد جرم عائد کر دی‘ آپ یہ فوٹیج دیکھئے اور ایک سوال کا جواب دیجئے‘ ۔۔اس بچی کو کس نے اتنا حوصلہ دیا کہ یہ نہتی ہوتے ہوئے بھی رائفل بردار فوجی کو سرے عام تھپڑ اور ٹھڈا

مار دے‘ ۔۔اس حوصلے کو ذہنی آزادی کہتے ہیں‘ ۔۔انسان جب ذہنی طور پر آزاد ہو جاتا ہے تو ۔۔اسے اتنا حوصلہ ۔۔اتنی ہمت مل جاتی ہے کہ یہ غلامی میں رہ کر بھی فوجی کوسر عام تھپڑ مار دیتا ہے‘ یہ لڑکی کیونکہ اسرائیل سے کولیشن سپورٹ فنڈ نہیں لیتی ‘ یہ ۔۔امداد بھی وصول نہیں کرتی ‘ یہ دہشت گردی کی جنگ میں اسرائیل کی اتحادی بھی نہیں اور ۔۔اس نے اسرائیل سے این آر او بھی نہیں لینا چنانچہ اسرائیلی فوجی نے جب ۔۔اسے ڈو مور کہنے کی جسارت کی تو ۔۔اس لڑکی نے (اس) کے منہ پر تھپڑ مار دیا جبکہ ہم بیس کروڑ لوگ مسلسل چھ ماہ سے امریکا سے بے عزتی کرا رہے ہیں‘ صدر ٹرمپ کی کل کی سٹیٹ منٹ کوکافی وقت گزرچکاہے‘ چین نے ہماری حمایت میں سرکاری بیان جاری کر دیا لیکن ہم ابھی تک ٹرمپ کے جواب کیلئے مناسب الفاظ تلاش کر رہے ہیں‘ پاکستان نے ابھی تک امریکا کو (کھل) کر جواب نہیں دیا‘ کیوں؟ اس کیوں کا صرف ایک سطری جواب ہے آپ جب کسی ملک سے امداد لیتے ہیں تو پھر آپ ذہنی طور پر بے عزتی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں اور ہم بے عزتی کیلئے تیار تھے چنانچہ ہم آج بھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں‘ ہمیں آج یہ سمجھنا ہوگا امریکا اور پاکستان کے تعلقات صرف ایک لفظ پر قائم ہیں اور وہ لفظ ہے ۔۔امداد‘ امریکا ہم سے جب بھی ناراض ہوتا ہے یہ سب سے پہلے ہماری ۔۔امداد بند کرتا ہے اور ہم رو دھو کر یہ ۔۔امداد (دوبارہ) چالو کر لیتے ہیں اور ہم ۔۔اسے سفارت کاری کہتے ہیں‘ ہم اگر اس فلسطینی بچی کی طرح عزت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں امریکی ۔۔امداد کو لات مارنی ہو گی‘ ہمیں آج اعلان کرنا ہوگا ہم بھوکے مر جائیں گے ۔۔لیکن امریکا کے سامنے ہمارا ہاتھ نہیں پھیلے گا‘ یقین کیجئے ہمیں ۔۔اس کے بعد کسی ٹویٹ کے جواب کیلئے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس نہیں بلانا پڑے گا۔

SHARE