Home International News geo adalat

geo adalat

14
SHARE

پاکستان میں انصاف کے نام پر کیا مذاق ہورہا ہے

ایک طرف شاہ رخ جتوئی ، مجید خان اچکزئی کی رہائی اور دوسری طرف صرف 400 روپے کی خاطر 19 سال جیل میں گزارنے والی خاتون۔۔۔ پاکستان میں انصاف کے نام پر کیا مذاق ہورہا ہے؟ یہ خبر پڑھ کر آپ بھی جان لیں۔۔۔۔۔چینوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک۔جیو پاک نیوز) اپنے شوہر کے قتل میں نامزد رانی بی بی ناکافی ثبوت ہونے کی بناپر 19سال بعد جیل سے ر ہا ہوگئی یہ کام 19سال پہلے بھی ہوسکتا تھا جب وہ1998میں محض 400روپے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کیس کی اپیل کے لئے درخواست نہ کر سکی،

رانی بی بی پر 1998 میں اپنے شوہر کے قتل کا الزام لگا تھا،جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے رانی بی بی کی سزا کے خلاف اپیل نہ کرنے کو جیل انتظامیہ کی بدنیتی قرار دیا ہے اور اس سزا پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔رانی بی بی کا رہائی کے بعد کہنا تھا کہ میں کہتی رہی کہ ہم بے قصور ہیں لیکن نہ تو قانون کو کوئی فرق پڑا نہ جج نے کچھ سنا، جیل میں آئے تو اپیل کی درخواست کے لیے پولیس والے نے چار سو روپے مانگے،ہم اتنے مجبور اور غریب تھے کہ یہ چار سو روپے بھی نہ تھے۔یوں محض چار سو روپے نہ ہونے کے باعث رانی بی بی کے 19 سال سلاخوں کے پیچھے گزر گئے۔قتل کا یہ واقعہ 1998میں آیا ، جب رانی بی بی پر ان کے شوہر کو قتل کرنے کا الزام لگا۔ ان کے والد، والدہ، بھائی اور ایک کزن بھی گرفتار کر لیے گئے پھر عدالت نے اس خاندان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔گرفتاری کے وقت رانی بی بی عمر تقریبا15برس تھی ،رانی بی بی نے بتایا کہ میرے والد پر بہت تشدد کیا گیا، پھر پانچ سال بعد وہ جیل میں ہی مر گئے، میرا بھائی جوانی میں جیل گیا اور اب بوڑھا اور بیمار ہو کر نکلا ہے۔قتل کے الزام میں سالوں قید رہنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے رانی بی بی کو ناکافی ثبوت اور ناقص شواہد کی بنیاد پر باعزت بری کر دیا ہے۔میری زندگی، میرا خاندان برباد کر دیا، آج یہ کہتے ہیں کہ عدالت نے باعزت برّی کیا ہے؟ اس ملک کی حکومت، یہاں کی عدالتیں اور پولیس، کوئی بھی میرے ساتھ نہیں تھا۔ عدالتوں اور پولیس نے مجھے دھتکارا، اب برادری بھی دھتکارتی ہے کہ یہ عورت اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں جیل میں تھی۔

واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ٹیمپرنگ کے کیس میں بلوچستان کے رکن اسمبلی عبد المجید خان اچکزئی کو باعزت بری کردیا گیا تاہم دیگر مقدمات میں وہ اب بھی زیرِ حراست ہیں۔خیال رہے کہ کوئٹہ میں پولیس اہلکارو کو گاڑی سے کچلنے کے حوالے سے کیس میں انکشاف ہوا تھا کہ مجید اچکزئی کے زیرِ استعمال گاڑی نان کسٹم پیڈ ہے جس کے بعد ان پر گاڑی ٹیمپرنگ کیس کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔صوبائی دارالحکومت کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں پولیس اہلکار قتل کیس کی سماعت کے دوران گواہان بھی پیش ہوئے اور دلائل سننے گئے۔ رواں برس جون میں ٹریفک پولیس اہلکار سب انسپکٹر حاجی آیت اللہ کو مجید اچکزئی کی تیز رفتار گاڑی نے ٹکر مار دی تھی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔اس کیس میں ابتدا میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی تاہم میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے بعد رکن صوبائی اسلمبی کو 24 جون کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔دوسری جانب رکن اسمبلی عبد المجید اچکزئی نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ٹریفک پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو خون بہا ادا کرنے کو تیار ہیں۔

SHARE