Home Pakistan News Mehran Marri Slap By Swiss Official with Life time Ban

Mehran Marri Slap By Swiss Official with Life time Ban

7
SHARE


زیورخ : بلوچ علیحدگی اور شدت پسند رہنما مہران مری کو زیورخ ایئرپورٹ 12 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد سوئٹزلینڈ داخلے پر تاحیات پابندی عائد کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرنے والے بلوچ علیحدگی اور شدت پسند رہنما اور بلوچ رہنما نواب خیربخش مری کے صاحبزادے مہران مری کو زیوریخ میں 12 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مہران مری کو اہل خانہ سمیت سوئس حکومت نے سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا۔

سوئز حکام نے مہران مری کے بیوی بچوں کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مہران مری کے سوئٹزرلینڈ میں داخلے پر دس سال کی پابندی لگادی گئی ہے، تاہم کچھ ذرائع کے حوالے سے ان پر تاحیات داخلے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مہران مری پر سوئٹزرلینڈ میں داخلے پر پابندی کا فیصلہ قابل اپیل ہے، تاہم انہیں صبح تک اپیل کیلئے دفتری اوقات کا انتظار کرنا ہوگا۔

مہران مری نے اس حوالے سے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہیں زیورخ ایئرپورٹ پر حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ ان کے بیوی اور بچے بھی ہیں۔

مہران مری بیوی اور چار بچوں کے ہمراہ جمعرات کو زیورخ ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ مہران کو سوئس امیگریشن حکام نے روک کر دستاویز ان کے حوالے کیں، جو 8صفحات پر مشتمل ہیں۔ دستاویز میں روکے جانے کی وجوہات کا ذکر ہے۔

ذرائع کے مطابق مہران مری بلوچ رہنماؤں کے اتحاد اور گھٹ جوڑ کے حوالے سے ہونے والی میٹنگ میں حصہ لینے کیلئے سوئٹزرلینڈ جا رہے تھے۔

واضح رہے کہ بلوچ علیحدگی پسند اور شدت پسند رہنما مہران مری بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے، جب کہ لندن کی بسوں اور دیواروں پر آزاد بلوچستان اور پاکستان مخالف نعروں اور وال چاکنگ اور بینر لگانے کی مہم بھی ان ہی کے حکام اور فنڈز کے ذریعے کی گئی۔ پاکستان مخالف مہم پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ شر پسند ، ملک دشمن عناصر پاکستان کے خلاف نفرت آمیز مہم چلا رہے ہیں، ملک دشمن عناصر اس طرح کی مہم سازی کے پیچھے ہیں، جو کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔ سماء

Email This Post



Source link

SHARE