Home International News geo pak army

geo pak army

95
SHARE

عالمی منظر نامہ تبدیل ۔۔ امریکہ کی پاکستان کو خوفناک دھمکی

اسلام آباد(جیو پاک نیوز) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف میں امریکہ کی جانب سے جو امداد دی گئی ، پاکستان اس کا آڈٹ کرانے کو تیار ہے، ہمیں اب امریکی امداد کے چار آنوں کی ضرورت نہیں ، پاکستان نے ہمیشہ گھاٹے کا سودا کیا ہے مگر اب ایسا ہر گز نہیں ہوگا، امریکہ نے اگر پاکستان پر دباؤ بڑھایا تو چین ، روس ، ایران اور ترکی ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی ہے جبکہ امریکہ کو افغانستان میں ناکامیاں ملی ہیں اور امریکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کا نام لے کر دباؤ ڈال رہا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام ”کل تک“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکی حکام کو پیشکش کرائی کہ وہ ہمارے ساتھ انٹیلی جنس رپورٹس شیئر کریں یا ان کی افواج ہمارے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر بتائیں جہاں جہاں حقانی نیٹ ورک کے لوگ ہیں، ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے، امریکہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے پاکستان پرحقانی نیٹ ورک کا نام لے کر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، امریکی افواج کی موجودگی میں داعش افغانستان میں پہنچ گئی ہے اور تین صوبوں پر کنٹرول پر قائم کر لیا ہے، داعش خود افغانستان نہیں پہنچی بلکہ اسے لایا گیا ہے، ہمیں امریکہ بتائے کہ داعش کو کون لایا اور وہ افغانستان تک کیسے پہنچی؟ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ امریکہ کو اس جنگ میں ناکامیاں اٹھانا پڑیں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی حقانی نیٹ ورک کے تین ہزار جنگجوؤں کو قابو نہیں کرسکے اور وہ اپنی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع دورہ پاکستان میں اگر ہمیں ڈکٹیشن دینے آ رہے ہیں تو ہم ان کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے اور اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے وطن کے

مفاد میں ہو گا۔مسلم لیگ(ن) پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، وزیر اعظم نے ارکان کو اداروں کے خلاف بیان بازی سے روک دیاوزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، ماضی میں بھی امریکہ سے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے،ہم امریکہ کے ساتھ برابر ی کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں اور اب وہ وقت ختم ہوگیا ہے جب پاکستان امریکہ سے ڈکٹیشن لیتا تھا ،۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ویژن امریکہ کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ اس ویژن کے تحت امریکہ گذشتہ 16سالوں سے افغانستان میں ناکام ہوچکا ہے، افغانستان کے 45فیصد حصے پر طالبان اور داعش کا کنٹرول ہے جبکہ امریکہ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے اس کا سیاسی حل نکالنے سے امریکہ کی عزت بھی بچ جائے گی اور افغانستان میں امن و امان لوٹ آئے گا۔

SHARE