Home International News geo cruption

geo cruption

26
SHARE

کرپشن کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے، جتنی انسان کی تحریر شدہ تاریخ یعنی جب سے تاریخ قلم بند ہونا شروع ہوئی ہے تب سے ہی کرپشن اپنی تاریخ تحریر کررہی ہے، پاکستان کی تاریخ بھی اس سے مبّرا نہیں، پہلے یہ سمجھ لیں کہ کرپشن ہے کیا اور اس کی سرحدیں کتنی دور دور تک کتنے متنّوع طریقوں سے پھیلی ہوئی ہیں۔ عام خیال کے برعکس کرپشن صرف ناجائز دولت کمانے تک محدود نہیں ہے اس کی وسعت ہمارے سماجی روّیوں میں بہت گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے، مالی، ذہنی، اخلاقی، سماجی، مذہبی غرض ہمارا کوئی سماجی روّیہ اس سے خالی نہیں۔ عمرانی پیمانے سے دیکھیں تو عام سمجھ بوجھ کے برعکس کرپشن صرف سیاست اور سیاست دانوں تک محدود نہیں ہے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ سیاست دان جب مالی کرپشن کرتا ہے تو وہ صرف عوام کی امانت میں ہی خیانت نہیں کرتا بلکہ اپنی سیاسی پارٹی، سیاسی ورکز، اپنے حمایتوں اور سب سے بڑھ کر اپنے ووٹرز کے ساتھ دھوکہ کرتا ہے، وہ قومی خزانے کو ہی نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ قومی منصوبوں کی ناقص تکمیل سے ملک کا مستقبل بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ انسانی تاریخ کی طرح پاکستان کی تاریخ میںبھی کرپشن ابتدائی دور سے ہی نظر آتی ہے،1947 میں ملک عزیز کے حصول کے بعد پہلے چند سال تو لُٹے پِٹے مہاجرین کو بسانے اور حکومتی مشینری کی بنیادیں ڈالنے میں ہی صرف ہوگئے جب دھول ذرا بیٹھی تو کرپشن کا جو پہلا کیس سامنے آیاوہ متروکہ املاک مہاجرین کو الاٹ کرنے سے شروع ہوا، یاد رکھئیے کہ جب میں لفظ مہاجرین استعمال کرتا ہوں تو اس میں صرف اردو دان طبقہ ہی شامل نہیں ہوتا۔ پنجاب میں لاکھوں انسانوں نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی اور انھوں نے اتنی ہی جانی، مالی، سماجی اور جسمانی قربانیاں دیں جتنی کسی بھی اردو بولنے والے نے۔ پاکستان سے ہندوستان جاتے ہوئے ہندو اور سکھ اسی طرح کروڑوں، اربوں کی املاک چھوڑ گئے جس طرح ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مسلمان۔ ان املاک میں صرف مکان اور دکان ہی شامل نہیں تھے بلکہ مِل، فیکٹریاں اور وسیع وعریض زرعی اراضی شامل تھے، متروکہ املاک کیلئے علیحدہ بورڈ بنایا گیا جو ابھی تک قائم ہے۔ مہاجرین سے کلیم طلب کئے گئے تاکہ ان کی چھوڑی ہوئی املاک کے مطابق یہاں الائٹمنٹ کی جائے، بس یہیں سے پاکستان کا میگا کرپشن کا وہ سفر شروع ہوا جو ختم ہونے کا نہ صرف نام نہیں لے رہا بلکہ اس میں ایسے ایسے اضافے اور ترکیبیں شامل کی گئیں کہ الامان والحفیظ! متروکہ املاک کے اسکینڈل میں عوام نے سول بیورو کریسی کو رشوت کی ایسی گھُٹّی چٹائی کہ اس کا تریاق آج بھی میسر نہیں۔ گویا رشوت شروع کرنے کا الزام دراصل عوام پر ہے، سول بیورو کریسی دوسرے نمبر پر ہے۔ عوام نے بھی جب کرپشن شروع کی تو خون ایسے منہ لگا کہ آج تک اس سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ چائے کی پتی میں چنے کے کالے چھلکے ملانے سے شروع ہوکر سرخ مرچ میں پسی ہوئی اینٹیں، تربوز میں لال رنگ کے انجکشن، گوشت میں پانی کے انجکشن، مردہ گائے بھینس بکری اور مرغی ہی کرپشن پر ختم نہیں ہوئی بات مردہ گدھوں کا” چھوٹا گوشت” فروخت کرنے تک پہنچ گئی۔ یہ صرف مالی کرپشن ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی کرپشن ہے۔ اس سلسلے میں جو سب سے خوفناک کرپشن ہے وہ جعلی دوائیاں بنانے کا کاروبار ہے اور ان میں جان بچانے والی دوائیاں تک شامل ہیں۔ دوائیوں سے یادآیا 90 کی دہائی کی بات ہے، حج میڈیکل مشن کی مکہ مکرمہ میں مختلف ڈسپنسریز کا معائنہ کرتے ہوئے میں کار سے اُترا تو کچھ عورتیں ڈسپنسری سے باہر آکر دوائیاں نالی میں پھینک رہی تھیں، میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا اور دریافت کیا کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہیں، اُن کا جواب تھا” ہمیں ان کی ضرورت نہیں” میں نے حیران ہوکر پوچھا تو پھر آپ لوگوں نے یہ دوائیاں لی کیوں؟ ان کا جواب سن کر مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ انھوں نے بڑے اطمینان سے کہا” کیوں کہ پاکستان میں ہم سے جو حج کے پیسے لئے گئے ہیں ان میں علاج کے پیسے شامل ہیں، ہم اپنے پیسے وصول کررہے ہیں” قارئین!23 سال گزر جانے کے بعد بھی میں آج تک سوچ رہا ہوں کہ اس سماجی روّئیے کو میں سماجی اور ذہنی دیوالیہ پن کہنے کے علاوہ کیا اس کو کرپشن کے زمرے میںبھی ڈال سکتا ہوں کیوں کہ ان دوائیوں کے ازالے کا مطلب کسی مریض کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔ مندرجہ بالا تحریر سے مقصد سیاست دانوں کی میگا کرپشن پر پردہ ڈالنا نہیں بلکہ قارئین کو یاد دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چودہ سو سال پہلے ہی بتادیا تھا کہ جیسے تم ہوگے ویسے ہی تم پر حکمران بٹھائیں گے۔ 70 سال کے اس سفر میں حکمرانوں نے کرپشن کی وہ داستان رقم کی ہے جس کی مثال دنیا میں کم کم ملتی ہے، ایک فوجی صدر کے بیٹے نے کاریں اسمبل کرنے کی فیکٹری ڈال لی حالانکہ موصوف کو فوج سے( اسی کام کیلئے) کپتان کے رینک سے ریٹائرمنٹ دلوائی گئی تھی، ایک اور فوجی صدر نے مالی کرپشن تو نہیں کی مگر ایسی اخلاق باختہ زندگی گزاری جو ضرب المثل بن گئی یہ سماجی اور اخلاقی کرپشن تھی، ایک اور فوجی صدر نے پاکستان، متحدہ عرب امارات اور لندن میں جائدادیں کھڑی کرلیں، نیوی کے ایک ریٹائرڈ چیف امریکہ سے ہتھکڑیاں لگاکر واپس لائے گئے یہاں آکر پلی بارگین سے چھوٹ گئے، یہ پلی بارگینNAB کی کرپشن کی بڑی کہانی ہے۔ اب آئیے معزز سیاست دانوں کی طرف خیر سے ایں خانہ ہما آفتاب است۔

ایک صاحب سینما کے ٹکٹ بلیک کرتے کرتے حکومت کے اونچے عہدے تک جا پہنچے، ان کے نزدیک اخلاقی اور سماجی قدروں کی کوئی اہمیت نہیں، پاکستان کے بڑے امیروں میں شامل ہیں، ان کیخلاف کرپشن کے سارے کیس ختم ہوگئے کیوں کہ کیس پولیس اور نیب بناتی ہے اور فیصلے جونیئر جج صاحبان کرتے ہیں،ایک اور صاحب معمولی پس منظرسے اٹھے اور سیاسی افق پر غروب ہونے سے پہلے آنے والی سات نسلوں کی کفالت کا انتظام کرگئے۔ سیاست دان یہ سب کچھ بغیر بیورو کریسی کو ساتھ ملائے نہیں کرسکتے، لہذا ہمارے بیورو کریٹس بھی غیر ملکی پاسپورٹ اور بیرون ملک جائدادوں کے مالک بن بیٹھے۔ ایک اور صاحب پر غیر ممالک سے فنڈ لینے کا الزام ہے مگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوتے، باقی رہ گئے عوام تو وہ ووٹ اُسے ڈالتے ہیں جو پولنگ اسٹیشن جانے کیلئے اچھی ٹرانسپورٹ دے اور ووٹ ڈالنے کے بعد اچھی مَٹن بریانی کھلائے چاہے وہ” مٹن” گدھے کے گوشت کا ہی کیوں نہ ہو۔

SHARE