Home Pakistan News Geo BRB story

Geo BRB story

53
SHARE

بی آر بی ایک نہر ہے جو6ستمبر1965ء کو دشمن کے اچانک حملے کے موقع پر ایک مظبوط دفاعی لائن بن گئی

رانا محمد شاہد:
بی آر بی ایک نہر ہے جو6ستمبر1965ء کو دشمن کے اچانک حملے کے موقع پر ایک مظبوط دفاعی لائن بن گئی۔ اس نہر کو ملک کے جواں ہمت لوگوں نے اپنی مدد آپ کے اصول پر کھودی تھی۔ اس کے کھودنے والوں میں پروفیسر بھی تھے اور تانگا بان بھی۔دیہات کے لوگ بھی تھے۔ غرض ہر طبقے کے لوگوں نے اس نہر کی کھدائی میں حصہ لیاتھا۔

جیسے جیسے نہر آگے بڑھتی جاتی،اس علاقے کے لوگ بھاگ بھاگ کر پہنچتے اور نہر کھودنے میں اپنا کردار ادا رکرتے۔ستمبر 1965ء میں لاہور سیکٹر کی جنگ اسی نہر کے کنارے لڑی گئی تھی۔ بی آر بی”بمبانوالی راوی بیدیاں نہر“کا مخفف ہے، یعنی مختصر نام۔6 ستمبر1965ء کی رات تاریکی میں دشمن نے پاکستان پر حملہ کردیا تو اسی مشہور ومعروف بی آر بی نہر نے دشمن کے بڑھتے قدم روک دیے۔

پاکستانی افواج کے شیر دل جوان دشمن سے مقابلے کے لیے اس نہر پر پہنچے ۔ دشمن فوج نے دوپہر تک لاہور پر قبضہ کرلینے کا جو خواب دیکھا تھا ، وہ بی آر بی کے رواں دواں پانی میں بکھر گیا۔ بی آر بی نے جنگِ ستمبر میں وہ کردار ادا کیا، جس کی مثال نہیں ملتی۔ سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ بی آر بی نہر کو عبور کرنے کے لیے مخالف فوج کے لیفٹیننٹ جنرل پی کے کول نے جالندھر میں اس نہر کی لمبائی ، چوڑائی اور گہرائی کے عین مطابق بالکل ایک ایسی ہی نہر 1965ء میں بنوائی تھی اور اس وقت سے دشمن فوج اپنے طور پر اس نہر کو عبور کرنے کی مشقیں کرتی رہی تھی۔

جنرل کول نے اپنی کتاب”ان کہی کہانی“میں ان مشقوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے ، لیکن 13 سال کی تیاریوں ،مشقوں،لاتعداد افواج، ہتھیاروں کی برتری اور بالکل اچانک حملہ کرنے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھی وہ اس نہر کو پار نہ کرسکے۔ اس سترہ روزہ جنگ میں دشمن کی توپوں نے لاتعداد گولے پھینکے۔ جہازوں سے راکٹ اور بم گرائے کہ کسی طرح بی آر بی نہر کو نقصان پہنچے اور اس میں بہتے پانی کا نظام بگڑ جائے، تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اس نہر کو عبور کرنے کے قابل ہوجائیں گے ، لیکن وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکا۔

شاید وہ جانتا تھا کہ اس کی پیش قدمی میں رکاوٹ بی آر بی نہیں، بلکہ پاکستان کے جوان اور شیر دل بیٹوں کا جذبہٴ جہاد اور شوق ِ شہادت ہے۔ بی آر بی نہر آج بھی پوری شان وشوکت سے بہ رہی ہے، کیوں کہ سے یقین ہے کہ اگر دشمن نے اسے تباہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستانی افواج کے شیر دل جو ان اسے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، کیوں کہ جنگ سازوسامان سے نہیں،بلکہ جذبے سے لڑی جاتی ہے اور اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان کی فوج اور قوم میں یہ جذبہ زندہ ہے اور رہے گا۔

SHARE